TOP wahidnaeem17's Videos 45 videos
1:06
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 272
Share Video

8:07
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 155
Share Video

10:02
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 121
Share Video

7:32
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 149
Share Video

7:30
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 146
Share Video

3:31
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 259
Share Video

0:52
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 113
Share Video

1:46
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 25 Oct 2008
  • 176
Share Video

6:13
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 195
Share Video

10:01
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 24 Oct 2008
  • 164
Share Video

9:59
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 23 Oct 2008
  • 90
Share Video

4:00
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 23 Oct 2008
  • 141
Share Video

9:30
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 23 Oct 2008
  • 156
Share Video

9:12
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 23 Oct 2008
  • 233
Share Video

9:34
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 23 Oct 2008
  • 130
Share Video

6:34
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 23 Oct 2008
  • 132
Share Video

8:20
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
  • 23 Oct 2008
  • 202
Share Video