Results for: tahirulqadri Search Results
Family Filter:
8:03
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
22 Oct 2008
773
Share Video

1:50
Milad Festival 2008 by Minhaj-ul-Quran Women League
22 Oct 2008
3840
Share Video

1:46
Maternity Hospital in Pakpattan by Minhaj Welfare Foundation
22 Oct 2008
255
Share Video

1:16
How Dr Tahir-ul-Qadri representing Islam in the west
22 Oct 2008
1450
Share Video

1:14
Aaghosh (Orphan Care Project) by Minhaj Welfare Foundation
23 Oct 2008
127
Share Video

1:11
First Written Constitution in Human History by Dr Tahir-ul-Qadri
22 Oct 2008
241
Share Video

1:01
Minhaj-ul-Quran Model Higher Secondary School Lahore
22 Oct 2008
2633
Share Video

0:50
Islam Rejects all types of Terrorism by Dr Tahir-ul-Qadri
22 Oct 2008
1491
Share Video

0:46
Reception of Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri by Christians of Lahore
23 Oct 2008
3938
Share Video

0:29
X-Ray & Clinical Lab in Gujranwala by Minhaj Welfare Foundation
23 Oct 2008
261
Share Video

2:23
Shaykh-ul-Islam Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri's Dua for the Members of Minhaj-ul-Quran (Norway, 10 August 2008)
23 Oct 2008
5197
Share Video

0:30
nullMedical Project by Minhaj Welfare Organization
23 Oct 2008
97
Share Video

0:30
Aaghosh آغوش
23 Oct 2008
126
Share Video

0:30
منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے تعلیمی ادارے اس وقت ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول اسلام آباد، شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر، ارضِ وطن کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں منہاج سسٹم آف سکولز کی خوشبو اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نہ پہنچی ہو۔ پاکستان میں کسی غیر سرکاری تنظیم کا یہ سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ ہے جو منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چل رہا ہے۔ ان سکولوں کو دوسرے تعلیمی اداروں سے نمایاں اورممتاز کرنے کے لئے منہاج ایجوکیشن بورڈ قائم کیا گیا جو ہر صوبے اور علاقے کے لئے مختص کردہ نصاب کے مطابق مختلف Date Sheets کے ساتھ نرسری تا دہم سمیسٹر ستمبر، دسمبر کے امتحانات کا اہتمام کرتا ہے۔ اسی طرح سالانہ امتحانات کے لئے نرسری سے لے کر جماعت ہشتم کے مکمل انتظامات مرکزی سطح پر Arrange کرتا ہے۔ اس طرح نرسری سے ہشتم تک تمام کلاسوں کے تمام مضامین کے امتحانات مرکزی سطح پر لینا یہ صرف منہاج ایجوکیشن بورڈ کا ہی خاصہ ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی بورڈ یا تنظیم خواہ وہ سرکاری ہو یا غیرسرکاری ایسا نہیں کر پا رہی۔
23 Oct 2008
101
Share Video

1:00
University Lahore (MUL) was established on 18th September 1986 in the city of Lahore- the city of learning, arts, culture and science. Minhaj University Lahore has gained the status of an international University for its distinctive educational system, multi-dimensional progress, profound administration and eye-opening results. In just fourteen years of its inception, its fame and popularity have reached up to Europe, Africa and Middle East; the progress continues and no later, its Alumni will lead the Islamic and Academic Renaissance in the world. College of Shariah, the first of the colleges functioning under the Minhaj University, is a grand center of learning and education striving for the production of honest, cultivated, qualified and committed leadership for the prevalence of Islam. It offers the Muslim Ummah multi-faceted, future-oriented and practical education in the context of a challenging environment in social, business, Islamic and computer technologies. College of Shariah is committed to harmonious development of learner's intellectual, spiritual and physical faculties. College of Shariah is the first college of its nature, which offers a blend of both religious and contemporary studies, not only in terms of figures but also for its high quality of instruction, dynamic strategy and experiential training format.
23 Oct 2008
717
Share Video

8:28
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
23 Oct 2008
367
Share Video