Results for: ul-islam Search Results
Family Filter:
5:15
To our Beloved Qaid Huzoor Shaykh ul Islam Pro.Muhammad Tahir ul Qadri - Qalam by Shaykh Sajid Fayyaz (Maiyya)
9 Feb 2010
691
Share Video

7:33
Hafiz Zuhaib Student of Dar ul Aloom Muhi ul Islam, (Manhais) This Video Extracted from http://www.faizanesahib.com
5 Dec 2012
301
Share Video

11:28
Hafiz Waqar Student of Dar ul Aloom Muhi ul Islam, (Manhais) on Urs Maten 2008, This Video Extracted from www.faizanesahib.com
5 Dec 2012
192
Share Video

7:32
Hafiz Inamullah Khan, Student of Dar ul Aloom Muhi ul Islam, (Manhais) This Video Extracted from www.faizanesahib.com
5 Jan 2013
389
Share Video

2:49
All that exposes Tahir-ul-Qadri is censored on Youtube, and all that glorifies him isn't
14 Mar 2010
833
Share Video

10:07
13 Nov 2012
471
Share Video

10:35
14 Nov 2012
329
Share Video

8:03
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
22 Oct 2008
695
Share Video

2:23
Shaykh-ul-Islam Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri's Dua for the Members of Minhaj-ul-Quran (Norway, 10 August 2008)
23 Oct 2008
5030
Share Video

8:28
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
23 Oct 2008
340
Share Video

7:20
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
23 Oct 2008
210
Share Video

8:58
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
23 Oct 2008
199
Share Video

8:20
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
23 Oct 2008
202
Share Video

6:34
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
23 Oct 2008
132
Share Video

9:34
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
23 Oct 2008
130
Share Video

9:12
days ago Dr Israr Ahmad gave some blasphemous comments about Siyyidina Ali (AS), Abdul Rahman bin Auf (RA) and other Sahaba karam on Qtv channel. In response to this, Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri delivered two lectures of more than 11 hour duration. He gave very sound arguments and strongly condemned such approach about the most dignified personalities of the Ummah. You may visit complete lectures at دنوں ڈاکٹر اسرار احمد نے کیو ٹی وی پر اپنے درس قرآن کے دوران سورہ مائدہ کے بیان میں کہا کہ شراب حرام ہونے سے قبل سیدنا علی (علیہ السلام) نے حالت نشہ میں نماز مغرب پڑھائی اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران سورہ کافرون غلط پڑھی۔ خارجی سوچ سے متاثر اور حب علی (ع) سے عاری مذکورہ خطیب کے اس بیان پر عامۃ الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جس کے نتیجے میں بعض شیعہ حضرات نے ردعمل میں آکر نہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کو غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں بلکہ صحابہ کرام اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھم اجمین کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ فتنہ کی بڑھتی ہوئی اس لہر کے دوران ڈاکٹر موصوف نے جہاں ایک طرف اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے معذرت نامہ جاری کیا وہیں اپنی پیش کردہ ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بے جا اصرار بھی کیا۔ ان کی وسعت نظر اور حکمت سے عاری سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں ملک ایک بار پھر شیعہ سنی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے موصوف کی پیش کردہ حدیث کو اسماء الرجال، جرح و تعدیل اور اسناد کے حوالے سے پرکھتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کی۔ اس خطاب میں جہاں آپ نے مذکورہ حدیث کے متن و سند دونوں میں موجود شدید اضطراب کو واضح کیا وہاں حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول میں 30 سے زائد دیگر اسناد پیش کیں، جن میں سیدنا علی علیہ السلام کی بجائے کسی دوسرے شخص کے امامت کروانے کا ذکر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جامع ترمذی سے پیش کردہ مذکورہ حدیث کے تینوں اہم راویوں کے ناقابل حجت ہونے پر ائمہ فن کے حوالے سے درجنوں دلائل پیش کئے۔ کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اس موقع پر شیخ الاسلام نے حرمت شراب والی آیت مبارکہ کے شان نزول پر درجنوں کتب تفاسیر کے حوالے بھی پیش کیے۔ جس کے نتیجے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی قلت مطالعہ اور فن حدیث سے قطعی طور پر نابلد ہونے کی بناء پر اس موضوع پر کلام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتے۔
23 Oct 2008
233
Share Video